29 اگست 2017 - 12:38
ایٹمی معاہدے کے بارے میں پارلیمانی کمیشن کی رپورٹ پیش

اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نےایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے بارے میں اپنی دوسری ششماہی رپورٹ منگل کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں ارکان کے سامنے پیش کردی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد، ہٹائی گئی پابندیوں ، باقی بچی پابندیوں، امریکا کے ذریعے ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیوں اور ایران کے ذریعے ان خلاف ورزیوں کا مناسب جواب دیئے جانے کے طریقوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے آئی اے ای اے کی تائید شدہ اور مصدقہ رپورٹوں کے مطابق ایٹمی معاہدے پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا ہے اور ایٹمی معاہدے پر ایران کی پابندی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ اسلامی جمہوریہ یران میں اسلامی اصول آفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔
اس رپورٹ میں اسی طرح ایٹمی معاہدے کے بارے میں امریکا کی وعدہ خلافیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی کانگریس کے ذریعے ایران کے خلاف پابندیوں کے قانون کی مدت میں توسیع، ایرانی شخصیتوں کے خلاف غیرایٹمی پابندیوں کا عائد کیا جانا، ایران کے اثاثوں سے اربوں ڈالر کو منجمد کردیا جانا اور انسانی حقوق سے متعلق رپورٹوں کو بہانہ بناکر ایران کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی کوشش ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزی کے سلسلے میں امریکا کے جملہ اقدامات میں شامل ہے۔
کمیشن نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ایٹمی معاہدے کی اساس تعاون اور دوطرفہ احترام ہے کہا کہ کسی بھی بہانے سے دباؤ اور دھمکیوں پر مبنی اقدام کا ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کی رائے مطابق اس تعاون پر نظر ثانی کی جائے گی۔
اس درمیان ایران کی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کے فوجی مراکز کے معائنے کا مطالبہ ایٹمی معاہدے کی روح، اس کے مسودے اور دفعات کے منافی ہے۔
پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان سید حسین نقوی حسینی نے بھی کہا کہ ایٹمی معاہدے کے مطابق صرف ایران کی ایٹمی نتصیبات کا ہی معائنہ ہوسکتا ہے لیکن ایران کے فوجی مراکز کا معائنہ کسی بھی قیمت پر ممکن نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی بھی صورت میں کسی بھی ملک کو اپنے فوجی مراکز کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دےگا۔

.......

/169